گلبرگہ2مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کرناٹک اردواکیڈمی جس کے قیا م کامقصد وہدف نسلِ نو کی علمی وادبی صلاحیتوں کے فروغ ساتھ انکی ادبی ذہن سازی تھا۔آج اپنی کوشش پیہم سے ایک اہم ادبی ستون کے روپ میں سامنے آچکی ہے۔ایک طویل عرصے سے یہ اکیڈیمی اپنی ادبی وعلمی سرگرمیوں کو پیش کرتی آرہی ہے۔یہ اکیڈیمی نہ صرف نوجوانان ملل کی ذہن سازی میں نمایاں رول ادا کرتی ہے بلکہ ان کے اندر ہمت و حوصلہ اور جذبہ وولولہ کی ایک امنگ بھر نے میں اہم کردار ادا کرتی ہے جو احساس کمتری کے شکار ہوکر خامہ فرسائی سے محروم رہ جاتے تھے یا اسٹیج کے خوف سے سہم کر اپنی علمی وادبی صلاحیتوں اور اپنے جذبات وخیالات اور تصورات کے اظہار سے محروم رہ جاتے تھے۔اس طرح انجمن ترقی اُردو گلبرگہ بھی اپنی کشادہ دامنی میں ان تمام جیالان ادب کو سمونے میں کامیاب ہوئی ہے۔جس کا بعینہ ثبوت آج کا یہ ایک روزہ قومی سیمینارہے۔کرناٹک اردو اکیڈمی کے زیرِ اہتمام ایک رو زہ قومی طنز ومزاح سمینار کامورخہ ۹۲/۴/۷۱۰۲ء کو انعقاد عمل میں آیا۔اس کا پہلا اجلاس صبح 00 11:/بجے ہوا۔ اس افتتاحی اجلا س کی صدارت ڈاکٹر عزیزاللہ بیگ صدر کرناٹک اُردو اکیڈیمی فرمارہے تھے۔جب کہ فریضہئ نظامت واجد اختر صدیقی صاحب نے انجام دی۔اجلاس کا آغاز کلامِ ربانی سے ہو ا۔جس کی پیش کش سید طیب علی یعقوبی صاحب نے کی۔ بعدازاں نعت پیش کی۔ نعت میں انہوں نے رسول پاک کے اوصاف حمیدہ کا تذکرہ کیا۔بعد ازیں سیمینار کنوینرانجینئر اکرم نقاش صاحب کے ذریعے پدم شری ڈاکٹر مجتبیٰ حسین صاحب کا اجمالی تعارف پیش کیا گیا اورافتتاحی اجلاس میں تمام فائزان نشست کی شال پوشی وگل پوشی کی گئی۔ سمینار کے دوسرے کنوینر ڈاکٹر امجد جاوید صاحب نے سمینار کے موضوع اور مقصد سے حاضرین وسامعین کوواقف کرایا۔ ڈاکٹر مجتبیٰ حسین صاحب نے اپنا کلیدی خطبہ پیش کیا انہوں نے دوران خطبہ کہا کہ اگر اہلِ گلبرگہ مجھے فرزندِ گلبرگہ نہ کہہ کر بابائے گلبرگہ کہیں توبہتر ہو گا۔فرزندِ گلبرگہ کا خطاب تو ڈاکٹر وہاب عندلیب صاحب کو دیا جانا چاہیئے یہ زندگی کے بہت سے نشیب وفراز سے دوچار ہوکر عمر کی اس دہلیز پر بھی فکرِ ادب میں جواں نظر آتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جب میری پہلی کتاب چھپی اور میں گلبرگہ آیا تو اس وقت جس شخص نے میری پر خلوص حوصلہ افزائی کی تھی وہ شخصیت ڈاکٹر وہاب عندلیب صاحب کی تھی۔دورانِ خطاب انہوں نے کہا کہ جن دوشہروں نے مجھے علمی فضا فراہم کی ان میں ایک گلبرگہ اور دوسرا حیدرآباد ہے۔سچ تو یہ ہے کہ حیدرآباد کو میں پسند کرتا ہوں اور گلبرگہ مجھے پسند کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنی زندگی کے بہاروں کے دن اسی شہرگلبرگہ کے گلی کوچوں میں گزارے ہیں۔یہاں میں نے اپنے عزیزوں کو اپنی نظروں کے سامنے قتل ہوتے دیکھا تھا اور اپنے عزیز واقارب کو کھویا تھا۔یہی سبب ہے کہ میں اس شہر کو کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔
بعد ازاں انہوں نے ایک مضمون ”میں اور میری مزاح نگاری“کے عنوان سے پیش کیا۔جس میں انہوں نے اپنے اسلوب مزاح کے ذریعہ لوگوں کو سامانِ مزاح فراہم کرنے کی کوشش کی ہے اور مولانا عبدالماجد دریاآبا د ی کی جانب سے اپنی کالم نگاری کی ستائش کا حوالہ دیتے ہوئے کالم نگاری،انشائیہ نگاری،مزاح نگاری وغیرہ کا تذکرہ کیا اور ارسطو،افلاطون،زینت آپا،عورتوں،کتوں اور حیدرآباد کے ایک واردات کا تذکرہ بھی مزاحیہ پیکر میں ڈھال کر کیا۔اس مزاحیہ مضمون میں انہوں نے ہنسی کو انسانی فطرت کا لازمی جز قرار دیا اور یہ بھی بتایا کہ آدمی ہنسے چاہے کسی طرح پر ہنسے ہنسی کی آواز سب کی ایک سی آتی ہے۔انہوں نے یہ پیغام بھی دیا کہ مزاح کے بادشاہ مشتاق احمد یوسفی کو دنیائے ادب کبھی فراموش نہیں کرسکتی ہے۔ انہوں نے لوگوں کوخطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں کلیدی خطبے کا قائل نہیں ہوں اسے کلیدی کانام نہ دے کر عیدی خطبہ کہا جائے تو بجا ہوگا۔دورانِ خطبہ بتایا کہ آج دنیا اتنی ترقی کرچکی ہے کہ اس برق رفتار دور میں ہر شخص بھاگم بھاگ کی زندگی بسر کررہا ہے۔کمپیوٹر کے اس دورمیں کسی کے پاس اتنی فرصت نہیں ہے کہ وہ بیٹھ کر ہنسی مزاح کی باتیں کرسکے اور کچھ لمحہ اپنی فرصت کے ہنسی میں صرف کرسکے۔آج ادبی محفلیں ختم ہورہی ہیں۔آج گنے چنے لوگ مل جائیں گے مزاح پر لکھنے والے۔دورانِ خطبہ انہوں نے بتایا کہ آج خواتین میں فرزانہ فرح وہ خاتون ہیں جنہوں نے مردانہ چولہ پہن لیا ہے۔اس لیے میں بلامبالغہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج مزاح کا میدان خاموش نظر آتا ہے۔انہوں نے اپنے کلیدی خطبے میں کہا کہ طنز ومزاح کا تمام دارومدار لفظ پر ہوتا ہے۔کس لفظ سے کون سا معنی نکل جائے اس پر بہت غوروخوض کرنے کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی اکیڈیمی کی سابق صدر مرحومہ فوزیہ چودھری کے کارہائے نمایاں کا تذکرہ کرتے ہوئے اکیڈمی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی جگہ لی۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر وہاب عندلیب صاحب نے حاضرین سمینار کو خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ مجتبیٰ حسین کے اس جامع خطبے کے بعد اب گنجائش نہیں رہ جاتی کہ کچھ کہنے کی جرء ت کی جائے۔انہوں نے بتایا کہ اچھا مزاح نگار وہ ہے جوخود پر ہنستا ہے۔آج کے اس برق رفتار دور می ں جب کہ انسان کے پاس سانس لینے کی مہلت نہیں ہے اس دور میں اس شخصیت سے بہتر کون ہوسکتا ہے جو دوسروں کے لیے سامانِ مزاح فراہم کرے اپنی باتوں کے ذریعے اس لیے تمام اہل قلم سے میری یہ گزارش ہے کہ وہ اپنا قلم اسی مقصد سے چلاتے رہیں۔آخر میں عزیزاللہ بیگ صاحب نے اپنا صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجتبیٰ حسین کی تحریروں کی نقالی کرنے کی بہت سے لوگوں نے کوشش کی مگر ان کا ثانی لانا مشکل ہے۔ادب پیدا کیوں ہوتا ہے اگر ادب کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ احساس ہوگا کہ ہم نے ادب کے ساتھ وہ سلوک روا رکھا ہے جو دیگر شعبہئ زندگی سے ہے۔ حساس ادیبوں نے سنجیدگی کے ساتھ زندگی کے فلسفہ کو پیش کیا۔ ادیب،شاعر،افسانہ نگار تمام نے اپنے اپنے زاویہئ فکر اورفن کے ذریعے سماج کی ناانصافیوں،دشواریوں،اور ظلم وجور کو بیان کیا ہے اسی کی ایک کڑی مزاح بھی ہے۔جس سے کہ اس ظلم وجور سے سسکتی قوم کو کچھ لمحے ہنسنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج اس سرزمین ہند پر مزاح نگاروں کی صف میں دوسرا نام پدم شری ڈاکٹر مجتبیٰ حسین صاحب کا آتا ہے اور ساتھ ہی ان کی عمرِ درازی ا و رصحت و توانائی کے لیے بارِ الٰہی سے دعا بھی کی اور کہا کہ بلامبالغہ ہم انہیں بابائے گلبرگہ کہہ سکتے ہیں اور ساتھ ہی اردو اکیڈمی کے زیرِ اہتمام دیگر کاوشوں کا بھی تذکرہ کیا اور تمام شائقین ادب وسامعین ادب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے صدارتی خطبے کو اختتام پذیر کیا۔اور افتتاحی اجلاس کے اختتام پر اکرم نقاش صاحب نے اظہار تشکر کیا۔
دوسرے اجلاس کاا نعقاد 12:30 /بجے عمل میں آیا۔اس اجلاس کی صدارت رکن اکیڈیمی امجد جاوید صاحب فرمارہے تھے جب کہ نظامت کا فریضہ ڈاکٹرافتخار الدین اختر نے انجام دیا۔اس اجلاس میں کل چار مزاحیہ تنقیدی مقالے پیش کیے گئے۔
اس اجلاس کا پہلا مقالہ ڈاکٹر منظور احمد دکنی نے ”کرناٹک کی خواتین مزاح نگار“کے عنوان سے پیش کیا۔محترم نے اپنے مضمون میں ان تمام خواتین ماہرینِ مزاح کا احاطہ کیا جن کے ذکر کے بغیر گوشہئ ادب تشنہ ہے۔محترم نے لئیق صلاح،شمیم ثریا،حلیمہ فردوس،فوزیہ چودھری جیسی مایہ ناز مزاحیہ قلم کاروں کے جنبش قلم کے جوہر اور ان کی تحریر کی خوبیوں وادبی کاوشوں کا تذکرہ بھی کیا۔ اس اجلاس کا دوسرا مقالہ فرحین بیگم نے ”کرناٹک میں اردو مزاح“کے عنوان سے پیش کیا۔انھوں نے گلبرگہ میں اردو کی نشونما پر نظرڈالتے ہوئے اس کے فروغ کا سہرا ابراہیم جلیس کے سر باندھا اور سلیمان خطیب کو سدا بہار شاعر کہا اور ساتھ ہی اردو زبان کی زبوں حالی کی طرف اشارہ کیا۔اس اجلاس کا تیسرامقالہ ڈاکٹر حلیمہ فردوس نے ”ظریفانہ ادب “کے عنوان سے لکھا تھا جسے واجد اختر صدیقی نے سنایا۔ محترمہ نے ظریفانہ ادب کے دور آغاز سے اب تک کے شاعروں کا اپنے مضمون میں عرق ریزی سے احاطہ کیااور پہلے شاعر اکبر الہ آبادی کے طنز کو ہدف موضوع بنایا۔محترمہ نے بتایا کہ سیاست،عورت اور شہرت ظریفانہ ادب کا موضوع ہے۔محترمہ نے بتایا کہ کس طرح سے ظریفانہ شاعر اپنی شاعری میں عورت کا سکہ،مرد کا دبدبہ،اور ساس کے مختلف روپ میں طنز کا نشتر اور مزاح کا پہلو تلاش کر لیتا ہے۔اس اجلاس کا چوتھا مقالہ ڈاکٹر بی بی رضا خاتون نے ”مشتاق احمد یوسفی کے مزاحیہ کردار“کے عنوان سے پیش کیا۔محترمہ نے اپنے مقالے کے ذریعہ مزاح کے بادشاہ مشتاق احمد یوسفی اور دیگر مزاح نگاروں نے کس طرح لفظوں سے مزاح کا پہلو تلاشا ہے اور ان کے مزاحیہ الفاظ کا بھی تذکرہ کیا ہے۔اس اجلاس کی صدارت فرمارہے۔امجد جاوید صاحب نے اپنے اختتامیہ صدارتی خطبے میں کہا کہ مشتاق احمد یوسفی۔۔۔ یوسفی ہیں اور مجتبیٰ حسین۔۔۔۔۔مجتبیٰ حسین ہیں ہمارے لیے باعث فخر ہے کہ ہم عہد مجتبیٰ میں زندہ ہیں۔بلکہ ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا شرف ہمیں حاصل ہے محترم نے بتایا کہ کوئی بھی تحریر اس وقت تک ادھوری ہے جب تک کہ وہ اپنے دور کے دیگر اصناف ادب کا احاطہ نہیں کرتی ہے۔محترم نے بتایا کہ جو انسان اپنی تحریر سے مطمیئن نہیں ہوتاہے وہی دوسروں میں نقائص ڈھونڈتاہے۔تیسرا اجلاس بعد ظہرانہ 02:30 /بجے منعقد ہوا۔۔اس اجلاس کی صدارت پروفیسر حمید سہروردی صاحب (صدر انجمن)فرمارہے تھے جب کہ نظامت کا فریضہ ڈاکٹر حسن محمودصاحب انجام دے رہے تھے۔اس اجلاس میں کل تین مزاحیہ مضامین پیش کیے گئے۔اس اجلاس کا پہلا مضمون ڈاکٹر فرزانہ فرح نے پیش کیا۔محترمہ نے اپنے مزاحیہ مضمون میں عورتوں کے بڑھتے وزن،ان کے فکر صحت،ان کے بڑھتے وزن سے ہونے والے نقصانات،زیروفیگر جیسے موضوعات سے طنز کا نشتر اور مزاح کا پہلو تلاشنے کی کوشش کی۔اس اجلاس کا دوسرامضمون ڈاکٹر رؤف خوشتر صاحب نے ”سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے“کے عنوان سے پیش کیا۔محترم نے اپنے مزاحیہ مضمون میں فطرتِ انسانی سے طنز ومزاح کے پیکر تلاشا ہے اور انسانی خصلتوں کو مزاح کے پیرائے میں بیان کیاہے۔اس اجلاس کا تیسرامضمون منظور وقار صاحب نے ”قارئین کے خطوط“کے عنوان سے پیش کیا۔محترم نے اپنے مضمون میں ادیبوں کے خطوط کا تذکرہ کیا اور خطوط میں طنززومزاح کا پہلوواضح کیا۔اس اجلاس کے اختتام پرڈاکٹر وحید انجم صاحب نے ایک مزاحیہ نظم پیش کی۔بعد ازیں پروفیسر حمید سہر وردی صاحب نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ اسلوب نگارش کو مضمون نگاری میں کافی اہمیت حاصل ہے اور یہ زبان پر عبور سے ہی ممکن ہے۔محترم نے دوران خطاب کہاکہ ادبی زبان کا ارتقاء تخلیقی صلاحیت سے ہوتا ہے۔محترم نے تمام مقالہ نگاروں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اپنے خطابات کو ختم کیا۔